Templates by BIGtheme NET

اگر یہ نشانیاں آپ میں ہیں تو آپکو کینسر ہونے والا ہے

برییسٹ کینسر کو عموما چھاتی کا سرطان بھی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے سرطان میں سرطانی خلیات ، پستان کے خلیات میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔ پستان دراصل غدود اور عضلات پر مشتمل نرم گوشوں اور باریک نالیوں کے مجموعے سے بنا ہوا عضو ہے۔ ہر گوشہ پھر مزید چھوٹے جھوٹے گوشوں پر مشتمل ہوتا ہے جنکو فصیص ..لوبز.. کہا جاتا ہے ، یہ فصیص پھر مزید چھوٹے بلبلہ نما اجسام بصلہ .ڈکٹس..سے ملے ہوتے ہیں جہاں دودھ بنتا ہے جو باریک باریک نالیوں کے زریعے نوک پستان ..نپل.. تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس بنیادی اور مزید پڑھنے کے لیے نیچے ویڈیو پر کلک کریں


اس بنیادی ساخت کے علاوہ پستان میں خون کی رگیں اور آبگونہ کی نالیاں بکثرت ہوتی ہیں۔ آبگونی نالیاں کہا جاتا ہے۔ یہ نالیاں آبگونہ یا آب زلال (لمف) کو جمع کرتی ہوئی آبگونی عقدوں تک لے جاتی ہیں۔ آبگونی عقدے چھوٹے جھوٹے گرہ نما اجسام ہوتے ییں جو کہ تمام جسم میں ہر جگہ پاۓ جاتے ہیں۔ دنیا بھر کی خواتین میں چھاتی کا کینسر عام ہوتا جا رہا ہے اور ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کی خواتین کی کل آبادی میں 16 فی صد عورتوں کو بریسٹ کینسر کا عارضہ لاحق ہے۔بریسٹ کینسر سے پوری دنیا میں ہر سال تقریبا 5 لاکھ خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔یہ مرض زیادہ تر پچاس سے ساٹھ سال کی عمر کے درمیان کی عورتوں میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں بہت تیزی سے مبتلا ہو رہی ہیں۔برطانیہ میں ہر سال تقریبا45 ہزار بریسٹ کینسر کے کیسز کی تشخص کی جاتی ہے جبکہ ہر نو میں سے ایک خاتون میں ان کی زندگی میں کینسر ہونے کا امکان ہوتاہے ۔بریسٹ کینسر جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک میں بھی بہت پھیل چکا ہے۔ چار ہزار خواتین ہر سال رحم یا بچہ دانی کے کینسر کا شکار ہوتی ہیں۔ اور تقریباٍ دس ہزار اوواریز یا بیظہ دان کے کینسر کے اور اڑتالیس سے پچاس ہزار خواتین بریسٹ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر نویں عورت اس مرض کا شکار ہوتی ہے۔‘‘پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ہر سال 85 ہزار افراد سرطان کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ملک میں پھپیھڑوں اور چھاتی کے سرطان کے علاوہ جگر کے سرطان میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی وجہ ماہرین صحت کے مطابق یرقان کا عام ہونا اور اس کے علاج میں تاخیر ہے۔اس کے علاوہ آنتوں کا کینسر اور مثانے کے قریب پائے جانے والے غدود کا سرطان بھی عام ہیں۔پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ہر سال چھاتی کے سرطان میں مبتلا خواتین کے تقریباً 90ہزار کیس رپورٹ ہوتے ہیں جو ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ پاکستان میں کینسر کے علاج اور تحقیق کے ادارے انمول یعنی انسٹیٹوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ انکولوجی کے زیر انتظام سیمینار

میں کنسلٹنٹ ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر عاصمہ سہیل نے کینسر کے بارے میں اکٹھے کیے گئے اعدادو شمار کے بارے میں بتایا کہ پاکستان میں ہر سال چالیس ہزار خواتین صرف بریسٹ کینسر کے سبب موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں اور ہر روز مختلف ہسپتالوں میں اس مرض کے سبب 250 خواتین رجسٹر ہوتی ہیں۔جبکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں بریسٹ کینسر سے 110 خواتین روزانہ موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں ۔ یہ مرض صرف خواتین میں ہی نہیں بلکہ مردوں میں بھی ہو سکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق مردوں میں اپنے ’لائف سٹائل‘ یا طرز زندگی کو بدلنے اور ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کرانے میں ہچکچاہٹ ان میں خواتین کی بنسبت کینسر ہونے کے امکانات زیادہ ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔برطانیہ میں کینسر کی بارے میں تحقیقات کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کینسر جو مرد اور خواتین دونوں میں ہوتے ہیں ان میں خواتین کی بنسبت مردوں میں کینسر کے ہونے کے ساٹھ فی صد اور اس سے ان کی موت ہونے کے ستر فیصد امکانات زیادہ ہیں۔ بریسٹ کینسر اور ایسے کینسر جو جنس سے متعلق ہیں ان کے علاوہ دیگر کینسر اور پھیپھڑوں کا کینسر مردوں کو زیادہ کرسکتے ہیں۔ خاص طور سے پھیپھڑوں کا کینسر کیونکہ مرد خواتین کی بنسبت زیادہ تمباکو نوشی کرتے ہیں اور لنگ کینسر تمباکو نوشی سے ہوتا ہے۔نیشنل کینسر انٹیلیجینس نیٹ ورک کے پروفیسر ڈیوڈ فورمین کا کہنا ہے کہ مردوں اور خواتین میں کینسر ہونے کے امکانات میں اتنا فرق ہونے کا کوئی بائیلوجیکل وجہ نہیں ہے اس لیے ہم یہ فرق دیکھ کر تعجب میں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مرد اور خواتین میں کینسر ہونے کے اس فرق سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس کی اہم وجہ مردوں میں لائف سٹائیل بدلنے کے بارے میں ہچکچاہٹ ہے۔ اگر مرد اپنے لائف سٹائل بدلنے کے بارے میں رویہ بدل لیں تو ان میں کینسر ہونے کے امکانات بہت کم ہوسکتے ہیں۔مینس ہیلتھ فورم کے چئیرمین پروفیسر ایلن وائٹ کا کہنا ہے کہ مرد اکثر تمباکو نوشی، زیادہ وزن اٹھانے، زیادہ شراب پینے اور خراب کھانا کھانے سے ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں کم خبردار ہوتے ہیں اور اس سب سے کینسر ہونے کا خدشہ مزید بڑھ جاتا ہے۔بریسٹ کینسر کی وجوہات 1.بریسٹ کینسر کی وجوہات میں ایکوجہ ہارمونز میں بے اعتدالی ہے

آئیے اس موضوع کوذرا تفصیل سے پڑھتے ہیں کہ اس بے اعتدالی سے کون کون سی کیفیات اور مرض لاحق ہو سکتے ہیں ۔ ایام سے قبل جب ایک یا دونوں چھاتیوں میں دور محسوس ہو۔ تھکاوٹ پیٹ میں گیس، سر میں درد، مزاج میں تیزی، افسردگی اور چڑ چڑاپن نمایاں ہو تو اسے سنجیدگی سے لیں یہ دراصل پی ایم ایس ہے۔ یہ علامتیں دراصل خواتین کے جسم میں ہارمونز کا توازن بگڑنے کی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 74 فیصد خواتین ہارمونز کے عدم توازن کا شکار ہوتی ہیں۔ ویمنز نیوٹرشینل ایڈوائزری سروس نے اس حوالے سے دو مرتبہ خواتین کا سروے کرایا۔ پہلی بار 1985ءاور دوسری مرتبہ 1996ءمیں کئے گئے سروے میں معلوم ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پی ایم ایس کی سنگینی بڑھتی جاتی ہے ایام شروع ہونے سے قبل 80 فیصد خواتین میں ایک دم سے موڈ کی تبدیلی، ڈپریشن، فکر، پریشانی اور جارحانہ احساسات نمایاں ہو جاتے ہیں ان میں سے 52 فیصد خواتین پیریڈ سے پہلے کے مرحلے میں ان علامتوں سے اتنی پریشان تھیں کہ خودکشی پر غور شروع کر دیا تھا اس کے باوجود ماہرین کا اصرار ہے کہ پی ایم ایس کوئی بیماری نہیں اور یہ سب خواتین کے اپنے دفاع کی اختراع ہے۔ویمنز نیوٹرشینل ایڈوائزری سروس کے ڈاکٹر ماریون کا کہنا ہے کہ پی ایم ایس 20 ویں صدی کی بیماری ہے اور اس کی بنیادی وجہ جدید معاشرے میں خواتین کے بدلتے ہوئے کردار کے سبب انہیں اپنی غذائی ضروریات کا ادراک نہ کرنا اور بڑھتا ہوا ذہنی بوجھ ہے اگر خواتین غذا کا خیال رکھیں، ورزش کیلئے وقت نکالیں، ذہنی دباؤ سے نکلنے کا کوئی متبادل طریقہ تلاش کریں تو صرف 4 ماہ میں یہ کیفیت ختم ہو سکتی ہے۔خواتین میں بریسٹ کینسر کی وجہ اُن میں اسٹروجن کی زیادتی بتائی جاتی ہے۔ تازہ ریسرچ سے پتہ چلا ہے اسٹروجن کو محدود کرنے سے خواتین میں اِس موذی مرض سے شفا یابی کی علامات پیدا ہوئیں ہیں۔ اس سلسلے میں خصوصی ورزش اورخوراک کومعیار بنایا گیا ہے تا کہ اِس اندز میں سٹروجن میں کمی لائی جا سکے۔ جدید دور میں خواتین میں ہارمونز کے غیر متوازن ہونے کی وجہ سے کی شکایات بھی بہت عام ہو گئی ہیں یہ ایک ایسی طبی کیفیت ہے جس میں رحم کے اندرونی حصے میں تشکیل پانے والے خلیات جسم کے دوسرے اعضاءمیں بھی جنم لینے لگتے ہیں جہاں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ عنفوان شباب میں قدم رکھنے والی لڑکیاں اور عمر کی 20 ویں دہائی میں موجود خواتین میں اس مرض کی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔ بار آوری کی عمریں 11 سے 60 سال عمر کی 10 میں سے ایک خاتون میں یہ شکائت دیکھی جاتی ہے اس کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ پیریڈ کے ایام ہیں ان دنوں درد کی شدت سے مریضہ خود کو معذور سمجھنے لگتی ہے معمول کے مطابق زندگی گزارنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے جو خواتین اینڈومیٹر یوسیس کا شکار ہوتی ہیں ان میں سے آدھی ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہیں۔گلٹیوں سے ہوشیار خواتین میں بریسٹ کینسر سے زیادہ بریسٹ لمپس کی شکایت عام ہوتی ہے یہ چھاتیوں میں بننے والی وہ گلٹیاں یا گومڑ ہیں جسے پول سیٹک یا فابٹر و سیٹک کیا جاتا ہے یہ شکائت 25 فیصد خواتین کو زندگی کے کسی مرحلے میں بھی ہو سکتی ہے تاہم اچھی بات یہ ہے کہ ایسی گلٹیاں سرطانی خصوصیات کی حامل نہیں ہوتی ہیں زیادہ تر غیر مضر ہوتی ہیں تاہم ان گلٹیوں کی موجودگی میں بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ایک اور مصیبت بریسٹ سے زیادہ خواتین میں ایک اور خطرناک خرابی فائبروئڈز کی دیکھی جاتی ہے خواتین کے تولیدی نظام سے متعلق اعضا میں کہیں بھی غیر مضر قسم کی گلٹیاں بن جاتی ہیں جو رحم کی اندرونی دیواروں سے جڑی ہوتی ہیں بعض اوقات ان کا سائز چکوترے جتنا ہوتا ہے ان کی وجہ سے ایام تکلیف دہ اور بے قاعدہ ہو جاتے ہیں بیضے دانیوں میں فائبر ونڈز اور آبلہ نما تھیلیوں کی موجودگی کی وجہ بیضوں کی تشکیل میں فعل تصور کی جاتی ہے